multan ki larki just for fun not real

Posted on

میں دیکھتی رہ گئی”
ملتان کے بارے میں تو آپ سب جانتے ھی ھوں گے ۔ پاکستان کا سب سے قدیمی شہر اور میں اسی شہر کے پوش علاقے گلگشت کی رہائشی ھوں ۔ بینک میں جاب ھے اور اچھی زندگی گزار رہی ھوں ۔میرا نام انیلا، عمر 25، جسم سمارٹ، فگر دوست کہتی ھیں “نیلی۔۔۔ تو قیامت ھے قیامت” سینہ 34 ،کمر27، کولہے 32، یہ ان دنوں کی بات ھے جب میں شانی کی وجہ سے بہت پریشان تھی ۔ شانی میرا بوائے فرینڈ اور سب کچھ ھے۔ شانی میرا پڑوسی ھے۔ وہ 19 سال کا معصوم صورت جوان انتہائی خوبصورت آنکھیں مناسب قد اور گورا چٹا پٹھان ھے۔ اُس کی آنکھوں میں عجیب کشش ھے۔ جو دیکھنے والے کو اپنی جانب کھینچتی ھے۔ میری سب فرینڈز کی رال بہتی تھی اُسے دیکھتے ھی وہ گیلی ھو جاتی تھیں۔ اور جب وہ ھاتھ ملاتا یا پھر قریب بیٹھتا تو۔۔۔۔اُس کے بدن سے عجیب لہریں نکلتی محسوس ھوتیں اور بے اختیار اُسکی بانہوں میں جانے اور اُس سے لپٹنے کو دل کرتا ۔ میں شانی کے سارے بدن سے واقف تھی ۔ اُسے ھر جگہ سے کئی بار پیار کر چکی تھی مگر جی کبھی نہیں بھرا تھا اُس سے ۔ میں جانتی تھی وہ میرے علاوہ کسی کو نہیں چاھتا اور نہ ھی قریب جاتا ھے ۔ مگر مجھے نہیں معلوم تھا یہ میری خوش فہمی ھے۔
کچھ دنوں سے میں محسوس کر رہی تھی کہ شانی مجھ سے دور رہنے کی کوشش کر رہا ھے ۔میں پوچھتی تو وہ ٹال جاتا ۔ مگر مجھے لگ رہا تھا کہیں کوئی چکر ضرور ھے ۔
کیونکہ وہ اب مجھ سے کترا تا تھا اور جب بھی میرے سامنے آتا تو اسکی نظریں جھک جاتی تھیں۔ اب ناں ھی وہ مجھ سے پیار کرتا اور نہ ھی کوئی کس وغیرہ۔ میں اسی وجہ سے کافی پریشان تھی۔ کیونکہ میری خواھش پوری نہیں ھو رھی تھی ۔ میں اُس کیساتھ مزہ لینے کی عادی ھو چکی تھی۔ او اب مجھے مزہ کی طلب تھی مگر شانی تھا کہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ خیر اسی دوران مجھے جاب کے سلسلے میں راجن پور جانا پڑا ۔راجن پور میں میری رھائش کا انتظام ایک بنگلے میں کیا گیا تھا ۔۔ 4 گھنٹے کے سفر کے بعد میں تھک گئی جب میں راجن پور پہنچھی تو اس وقت شام کے 7 بجے تھے گرمیوں کے دن تھے ۔ بنگلے میں میرے علاوہ ایک 16 سالہ لڑکا تھا ۔ گیٹ اُس نے کھولا اور بتایا وہ چوکیدار کا بیٹا ھے اور اپنے باپ کی جگہ رات کیلئے آیا ۔کیونکہ اُس کا باپ بیمار ھو گیا گرمی لگ گئی جبھی وہ یہاں آیا ھے۔لڑکا دکھنے میں کم عمر لگتا تھا ۔
اُس نے مجھے روم دکھایا میں اندر گئی تو اندر کافی حبس تھی۔ میں نے لڑکے سے پوچھا اےسی کیوں نہیں چلایا ؟
وہ بولا باجی “بجلی نہیں ھے اور جنریٹر بھی خراب ھے” 8 بجے بجلی آجا ئے گی۔
میں نے اسے کہا چلو تم کچھ ٹھنڈا لے آؤ۔
وہ مڑ کر چلا گیا ۔ تو میں نے اپنا بیگ بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور واش روم گئی جب باھر نکلی تو پسینے سے مکمل بھیگ چکی تھی ۔ روم میں لڑکا کولڈ ڈرنک لئے کھڑا تھا ۔ میں کمرے سے باھر آتے ھوئے بولی اندت بہت گرمی ھے ۔ باھر آجاؤ سامنے لان میں لوھے کی کرسیاں تھیں میں وھاں بیٹھی ۔ اور اسے کہا لاؤ مجھے دو ۔ یہ کہتے ھی جب میں لڑکے کی جانب دیکھا تو ۔۔ مجھے حیرت ھوئی اُس کی نظریں میرے سینے کا ابھاروں پر مرکوز تھیں۔ میں نے اپنی آنکھیں جھکا کر اپنے سینے کی جانب دیکھا تو ۔۔ وھاں کا نظارہ ھی پر کشش تھا ۔ صورتحال یوں تھی کہ پسینے سے میری سفید لان کی شرٹ میرے بدن پر چپک گئی تھی اور بلیک بریزئر صاف دکھائی دے رہا تھا ۔ بلکہ میرے سینے کے سڈول ابھاروں کی گولائیاں بھی دکھ رہی تھیں۔ میں نے پھر نظریں اُٹھا کر لڑکے کو دیکھا تو وہ اب بھی میرے اپھاروں کو دیکھے جا رھا تھا ۔ میں مسکرا دی ۔ اور میرے ذھن میں اپنی پیاس بجھانے کی ترکیب آگئی ۔ میں پہلے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی اب میں سیدھی ھو کر آگے کی طرف جھک گئی ۔ ایسا کرنے سے میرے گلے میں سے میرے گورے ممے صاف دکھنے لگے ۔ لڑکا بس میرے مموں کو گھورے جا رھا تھا ۔ اُسے آس پاس کا کچھ ھوش نہیں تھا لگتا تھا اُس نے زندگی میں پہلی بار یہ نظارہ دیکھا ھے ۔ میں نے اُسکی ٹانگوں کے بیچ دیکھا تو مجھے حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا ۔ وھا ں سے اُس کی قمیض تمبو بنی ھوئی تھی۔ میں یہ دیکھتے ھی گرم ھو گئی ۔ میں نے اُ س کی طرف دیکھا اور کہا کیا دیکھ رہے ھو ۔ وہ ھڑ بڑا گیا ۔ اور ادھر اُدھر دیکھنے لگا آسکا حلق خشک ھو گیا تھا شاید وہ کچھ ناں بولا ۔ میں نے اُسے کہا بیٹھو وہ میرے سامنے بیٹھ گیا میں نے نام پوچھا تو اُس نے گلو بتایا ۔
میں نے کہا ” گلو تم کیا کرتے ھو ؟
وہ بولا ” باجی میں زمینو ں پر کام کرتا ھوں”
میں نے پوچھا ” تمہاری شادی ھو گئی ؟”
وہ کچھ شرماتے ھوئے بولا ناں باجی ابھی کہاں”
مین نے کہا ” گلو تمہارے یہاں تو جلدی شادی کر دیتے ھیں ناں سب کی ؟”
وہ بولا ” ھاں باجی پر بابا کہتے ھیں ابھی تو چھوٹا ھے۔ مگر میری امی کہتی ھیں اسکی شادی کردو مگر بابا نہیں مانتا”
میں نے پوچھا ۔ کبھی کسی لڑکی سے پیار کیا ھے ؟
وہ بولا ” یہ کیا ھوتا ھے جی ؟”
میں نے کہا ” کوئی لڑکی اچھی لگی ھو اور اُسے چومنے کادل کیا ھو کبھی ؟”
وہ بولا ” نا ں باجی ناں میں نے کبھی ایسا سوچا بھی نہیں ھے “۔
میں سمجھ گئی یہ زیرو میٹر ھے ۔۔۔ اسکے گھوڑے پر سواری کرنے کا الگ ھی سواد آئے گا ۔ کچھ دیر ھم وھیں بیٹھے رھے پھر بجلی آگئی تو میں اندر کمرے میں آگئی اور اے سی آن کیا دوپٹہ اتارا اور بیڈ پر لیٹ گئی۔ کچھ دیر بعد گلو آیا اور کھانے کا پوچھا میں نے کہا تم کھانا لے آؤ مگر میں کھاؤن گی دیر سے ۔ وہ کھانا لینے چلا گیا ۔ تو میں نے باتھ لیا اور ٹراؤزر اور ڈھیلی شرٹ بغیر پرریزئر کے پہن لی ۔ لیپ ٹاپ نکالا کچھ کام وغیرہ کرنے لگی تو گلو کھانے لے کر آچکا تھا اس نے دروازے پر دستک دی تو میں نے اندر بلایا اس نے بتا کھانا لگا دوں باجی ؟ میں نے کہا نہیں تم پہلے مجھے دبادو کچھ دیر میں بہت تھک گئی ھوں ۔
اور میں یہ کہتی ھوئی اُٹھ کر بیڈ پر ٹانگیں سامنے کی طرف کرکے تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی ۔
اور اُسے ھاتھ سے اشارہ کیا یہاں آؤ
وہ پاس آیا تو میں نے پاؤں کی جانب اسے بیٹھنے کو کہا
جیسے ھی وہ ٹانگیں لٹکا کر بیڈ پر میرے قریب بیٹھا میں نے اپنا پاؤں اُٹھا کر اسکی گود میں رکھ دیا اور کہا گلو۔ ذرا دھیرے سے دبا دو۔
اسنے میرے پاؤں کو اپنے کھردرے ھاتھوں میں پکڑا اور دبانے لگا ۔ آسکے ھاتھ بہت سخت تھے ۔
وہ کبھی میری انگلیاں دباتا اور کبھی ایڑھی ۔ میں نے کہا
” گلو پنڈلی اور گٹھنا بھی دباؤ نا ”
اس نے بنا کچھ کہے میری نرم ملائم پنڈلی کو دبانے لگا اور پھر وہ گھٹنے کی طرف اپنا ھاتھ بڑھانے لگا ۔اسکے ھاتھ بہت سخت تھے مجھے سکون مل رہا تھا مگر میری گرمی بڑھتی جا رھی تھی ۔ مجھے شانی یاد آنے لگا ۔ شانی میری جان مجھے بہت مسلتا تھا ۔ اسکے ھاتھ بہت نرم تھے ۔ مگر آج پہلی بار میرے بدن کو کھردرے ھاتھوں کا لمس مل رھا تھا ۔ کچھ دیر بعد میں نیچھے کی جانب کھسک گئی اور میری رانوں کے بلکل بیچ گلو آگیا ۔ میں اپنی دوسری ٹانگ گلو کی گود میں رکھی تو نیچے سے اُسکا ہتھیار میزائل کی طرح اوپر کی جانب منہ کیئے کھڑا تھا میری ٹانگ اسکے لوڑے پر رکھ دی ۔ ٹانگ ٹچ ھوتے ھی آسکے لوڑے نے جھٹکا مارا میرے منہ سے سسکاری نکل گئی ” آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔ گلو۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا ھے سخت سا تمہاری گود میں “؟
گلو نے جلدی سے اپنے دونوں ھاتھوں سے اپنے لنڈ کو پکڑا اور اپنی ٹانگوں کے ببیچ دبایا جیسے ھی ھاتھ چھوڑا وہ پھر سر اٹھا کر کھڑا ھو گیا ۔
اس نے دوبارہ دبانے کی کوشش کی مگر لنڈ پھر سے لوھا ھو گیا ۔
میں اُٹھ بیٹھی اور اس کے لنڈ کو اپنے ھاتھ میں لیتے ھوئے بولی لاؤ میں دیکھتی ھوں کیا ھے اسیے۔
میں نے جیسے ھی اسکا لنڈ پکڑا مجھے ایک دم جھر جھری آگئی ۔اُف وہ بہت لمبا موٹا اور بہت زیادہ سخت تھا کسی ڈنڈے کی طرح ۔
میں نے گلو کو بیڈ پر لٹایا اور لپٹ گئی اُس سے ۔ اور بے تحاشا آسے چومنے لگی وہ ۔ چپ چاپ پڑا رھا ۔ میں کبھی اسکا ماتھا چومتی اور کبھی اسکے گال پھر میں نے اسکے خشک ھونٹ اپنے لبوں یں لیئے اور چوسنے لگی ۔ اب وہ بھی چوسنے لگا تھا ۔ میں ایک ھاتھ سے مسلسل اس کے تنے ھوئے لوڑے کو مسلے جا رھی تھی ۔ کافی دیر چوسنے کے بعد میں اُٹھی اور اپنی شرٹ اور ٹراؤزر دونوں اتار دئے ۔ میں نے گلو سے کہا
“تم بھی اپنے کپڑے اتارو ”
وہ بولا ” باجی مجھے شرم آتی ھے ”
میں اسکے لنڈ کو پکڑتے ھوئے بولی ” تمہیں شرم آتی ھے ناں اس بیچارے کو تو نہیں آتی۔”
پھر میں نے خود ھی گلو کی شرٹ اوپر کی ار گلے سے نکال دی ۔ اور اُس کی شلوار کا ازاربند کھولا اور شلوار ڈھیلی کر دی ۔ پھر میں نے پاؤن کی طرف جا کر اسکی شلوار کھینچ کر اتار دی ۔ گلو ننگا ھوتے ھی سمٹ گیا اور اپنے لںڈ کو ٹانگوں میں چھپانے لگا ۔
میں نے قریب جا کر اس کی ٹانگیں کھولیں تو ۔۔ اسکے لںڈ کو دیکھتی ھی رھ گئی ۔ ٹیوب لوئٹ کی مرکری روشنی میں اسکا سانولا لنڈ۔ اُف ۔۔۔ کوئی 8 انچ لمبا اور ڈھائی انچ موٹا ۔۔۔۔ جھٹکے مارتا مجھے اپنی طرف بلا رہا تھا ۔ میں حیران اس لیئے تھی کہ بظاھر بچہ دکھنے والا یہ لڑکا کتنا پاور فل لنڈ کا مالک ھے۔۔۔واھ۔۔۔۔۔ میں نے اسے لٹایا اور اسکے گھوڑے جتنے لنڈ کو اپنے دونوں ھاتھوں سے دبانے اور سہلانے لگی ۔ چند لمحوں بعد میں اسکی ٹوپی منہ میں لی اور چوسنے لگی ۔۔۔ آہ۔۔۔۔۔۔ کیا ٹیسٹ تھا اسکا ۔
کافی دیر اسے چوسنے کے بعد میں نے اس سے کہا گلو اب میں تھک گئی ھوں تم مجھے چومو اور اپنی زبان سے میرے پورے بدن کا مساج کرو ۔
وہ چپ چاپ اٹھ بیٹھا اور مجھے چومنے لگا ۔۔وہ بلکل اناڑی تھا ۔۔ مگر اسکی بے تابی مجھے مست کر رہی تھی ۔۔۔ وہ بے صبروں کی طر ح اور بھوکوں کی طرح مجھے چوس رھا تھا نچوڑ رہا تھا ۔ اپنی زبان سے میرے ممے چوسے ۔۔۔میرے اکڑے ھوئے گلابی رنگ کے نپلز کو چوسا ۔۔ میرے دودھ دبا دبا کر بہت سا جوس پیا ۔ پھر وہ میرے پیٹ کو چومتا ھوا ٹانگو کے عین بیچ ۔۔۔ میری خوبصورت جھیل پر آکر ٹہر گیا اور اسے دیکھنے لگا ۔۔۔ پھر اپنی زبان نکالی اور میری کشتی کے بادبان کو سہلانے لگا اپنی زبان سے ۔۔ میری سسکاریا نکلنے لگیں ۔ آہ ہ ہ ہ اف ف ف ف ف اوھ ۔۔۔ گلو ۔۔۔۔۔
چوس لو اسکا سارا پانی پی جاؤ ۔۔۔ یار۔۔۔ میری چوت اب پانی سے چکنی ھو چکی تھی ۔۔ گلو نے وہ سارا پانی اپنی زبان سے چوس لیا ۔۔۔ اب مجھ سے برداشت نہیں ہو رھا تھا میں بے قابو ھو رہی تھی ۔ میں نے گلو سے کہا اپنے لوڑے کو اس میں ڈال دو وہ بولا “باجی مجھے نہیں آتا ”
اھو میں بولی پاگل اسے کھول اور اپنے لنڈ کا ٹوپا اس میں پھنسا کر اندر ڈال دے ۔۔
اس نے ایسے ھی کیا مگر اسکا لوڑا بہت موٹا تھا اندر ھی نہیں گھس رہا تھا ۔۔ میں جلدی سے اٹھی اور پرس میں سے کریم نکالی اور اسکے ٹوپے پر لگا دی اسکے آدھے لنڈ تک اور اسے کہا اب ڈالو۔ میں نے اپنی دونوں ٹانگیں کھول دیں اور اپنی چوت کے لپس کو اپنی انگلیوں سے کھول دیا گلو نے ۔۔ اپنے لنڈ کا ٹوپا سوراخ پر رکھ کر سارا وزن مجھ پر ڈال دیا ۔۔۔ مجھے اپنی چوت میں شدید تکلیف ھوءی مگر میں برداشت کرتی رھی وہ بس اندر ھی دھکیلتا رہا ۔۔ بڑی مشکل سے ٹوپا اندر گھسا ۔۔ میں سانس روکے پڑی تھی ۔ میں نے سانس لیا اور اسے کہا پیچھے ھو کر دھکا مارو ۔ گلو پیچھے ھوا اور پھر اس نے زور سے دھکا مارا تو میری چیخ نکل گئی ۔۔۔۔۔۔ آہ
مر گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ گلو ۔۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔ رک جاؤ ۔۔۔ کچھ دیر رکنے کے بعد گلو کو کہا کہ اب وہ آگے پیچھے ہو ۔۔ وہ دھکے لگانے لگا تو مجھے پھر سے مزہ آنے لگا ۔۔ درد ختم ھو کر مزہ آنے لگا ۔۔ گلو کا آدھا لنڈ میری چوت میں پھنس پھنس کر جا رہا تھا ۔۔ اسکے لنڈ کی رگڑ سے مجھے بہت سکون مل رہا تھا مگر تشنگی بڑھتی جا رھی تھی گلو نان سٹاپ دھکے لگائے جا رہا تھا ۔
مجھے مزہ آنے لگا ۔۔۔ اہ اوہ ۔۔ گلو ۔۔۔ میری جان ۔۔۔ زرا زور سے ۔۔ گلو نے میری آواز سنتے ھی اپنی رفتار بڑھائی ۔۔۔ مسلسل 20 منٹ کی چدائی کے بعد میں چھوٹ گئی مگر ۔۔ گلو کا لنڈ اب بھی ویسا تنا ھوا تھا ۔۔ کچھ دیر ریست کے بعد ۔۔ گلو ایک بار پھر مجھ پر سوار ھو گیا اب کی بار مجھے بہت مزہ آ رہا تھا ۔۔۔ گلو کا لںڈ بھی کافی اندر تک جا رہا تھا اور میری اندر کی دیواروں کو چوٹ مرتے ھوئے مجھے پاگل کر رہا تھا آخر کا ر گلو نے ایک زوردار دھکا مارا اوور مجھے مموں سے پکڑ کر زور سے جکڑ لیا اور اسکے لنڈ نے لاوا اگل دیا جو میری چوت کو ٹھنڈا کرتا ھوا باھر تک بہہ آیا ۔۔ ھم کافی دیر یونہی پڑے رہے ۔۔پھر میں وہاں جتنے دن رہھ ھم روز 4 سے 5 بار سیکس کرتے۔۔۔ میری چوت کافی کھل چکی تھی ۔ اور شانی بھی بھول چکا تھا ۔۔ پھر وھاں سے واپسی پر میں نے گلو کو موبائل سیٹ اور کچھ رقم دی اور کہا میں جب بھی بلاؤں تم ملتان آجانا ۔۔ اوراسکے بعد وہ کئی بار ملتان آیا
Logged

mari nokrani :urdu font kahani

Posted on Updated on

را نام فیصل ہے اور میں پاکستان کے شہر وزیرآباد سے ہوں یہ تب کی بات ہے ۔جب میں 18 سال کا تھا۔ میرے گھر میں اک لڑکی کام کرنے آتی تھی۔ آس کا نام شمع تھااور آس کی عمر 20 سال تھی۔ وہ بئت خوبصورت تھی ۔اور آس کا جسم بھی بہت خوبصورت تھا۔ آس کا فگر 36۔28 ۔34 تھا ۔ میرے گھر والے شادی پر گیے تھے اور میں پییر کی وجہ سے نہی جا سکا۔ دن کے 11 بجے کا ٹائم تھا جب دروازہ کی گھنٹی بجی مئں باہر گیا تو وہاں شمع تھی مئں نے آسے نہی بتایا کے گھر میں کوئی نہی ۔اس لیے کے اس سے اچھا موقع شاید پھر نہ ملتا۔ جب وہ گھر کے اندر ا گی تو آس نے پوچھا ۔ بھائی جان گھر میں کوئی نہی ہیں؟ Read the rest of this entry »

piyasi aurat kahani in urdu font sex

Posted on

و میں آپ کو سنانے جا رھا ھوں وہ بلکل سچا ھے یھ اس وقت کی بات ھے جب میری عمر ۱۶ سال تھی میرے گھر کے ساتھ والے گھر میں ایک آنٹی رھتی تھیں جن کے شوھراکثر گھر سے باھر رھا کرتے تھے اور وہآنٹی اپنے گھر میں اپنی ایک بیٹی کے ساتھ رھتی تھیں ایک بار ایسا ھوا کے آنٹی نے مجھے اپنے گھر بلایا چونکے و ہ ہمارے ہمسایہ تھے اس لیے میں ان کےگھر کا کام کردیا کرتاتھا .آنٹی نے مجھے کہاکے ان کے کسی رشتہ دار کی شادی کی مووی آئی ہے تو وہ انہوں نے دیکھنی ہے تو میں اس کے لئے کہں سے وی سی آر کرائےپر لا دوں .پہلے تو میں ہچکچایا لیکن پھر میں نے آنٹی سے وعدہ کر لیا کے میں ان کووی سی آر کرائے پر لا دوں گا.اس وقت شام کے ۵بج رہے تھے .میں اپنے محلے کےویڈیوسنٹرگیااور آنٹی کو وی سی آر لادیاآنٹی نےمجھےکہاکہ میں ان کووی سی آر سیٹ کرکےچلا کر دے دوں.میں نے ان کو شادی کی مووی چلا کردے دی اس دوران مجھے ایسامحسوس ہوا جیسے آنٹی میرے کچھ زیادہ ہی نزدیک آ رہی ھیں اور ایک دو بار میرا ھاتھ آنٹی کے جسم کے ساتھ ٹچ ھوا ایک عجیب سی سنسناہٹ میرے اندر ہویاس کے بعد میں اپنے گھر آیا اور میرا ذہن آنٹی کے خوبصورت لمس کو محسوس کر کے بہت اچھا فیل کر رہا تھا میں نے اس وقت کے لمحات کو اپنے ذہن میں دوڑانا شروع کیاتو آنٹی کا خوبصورت میرے سامنے تھا اس کے گورے رنگ پر پیلا لباس اتنا فٹ تھا جیسے آنٹی نے اپنے خوبصورت مخملی جسم کو پینٹ کیا ہو. اس پر مموں کے ابھار قیامت ڈھا تے ہوے.اب مجھے اپنی ٹانگوں کے درمیان حرکت محسوس ہوئی اب میرا لن اکڑ کر کھڑا ہو گیا تھا نہ چاھتے ہوئے بھی میرا ہاتھ پینٹ کے اندر چلا گیا اور میں نے تصور میں آنٹی کے نام کی ایک مٹھ ماری اب میرے لن سے گرم گرم منی کے فوارے نکلے اور میری پینٹ گیلی ہو گئی.یہ میری زندگی کی پہلی مٹھ تھی جو کہ آنٹی کے نام تھی.اب روزانہ میں آنٹی کے گھر کے باہر زیادہ ٹائم گزارنے لگا تھا اور موقع کی تاڑ میں تھا کہ و ہ کب کمبخت اپنے خوبصورت جسم کا دیدار کرواتی ہے. آخر ایک دن آنٹی نے مجھے آواز دی کے بیٹا ہماری موٹر خراب ہوگئی ہے تو اس کو ذرا چیک کر لو میں نے موٹر چیک کی تو آنٹی میرے قریب ہی تھی میں نے جان بوجھ کر آنٹی کے جسم کو ٹچ کیا تا کہ مٹھ مارنے کا بہانہ ہاتھ آ جائے . اس دوران آنٹی نے میرے لئے چائے بنوائی. چائے کو دیکھ کر مجھے یک دم خیال آیا کے آنٹی کی بیٹی بھی تو اس گھر میں رہتی ہے لیکن وہ کبھی نظر نہی آئی اب میرا تجسس بڑھا کہ آنٹی کی بیٹی کو دیکھوں کیوں کے دل میں خیال آیا کے یہ اتنی خوبصورت ہے تو بیٹی تو کمال کی ہو گی. آنٹی سے باتوں ہی باتوں میں میں نے ان کے شوہر کے بارے میں پوچھا تو آنٹی نے ایک لمبی سی سانس لی اور بتایا کہ وہ کینیڈا میں پچھلے دس سال سے رہ رہا ہے اور ایک بار بھی نہیں آیا یہ بتاتے ہوے آنٹی کہ چہرے پر ایک عجیب سی کشید گی تھی مجھے اس وقت آنٹی پر بہت ترس آیا اور میں اس لن کی ترسی ہوئی آنٹی کے گرم جذبات محسوس کرنے لگا میں نے موقع کی مناسبت سے آنٹی کو کہا کہ آپ کو جب بھی کوئی کام ہو تو مجھ سے بلا جھجک کہ دیا کریں میں آپ کی تمام چیزوں کا خیال رکھوں گا آپ مجھے اپنا ہی سمجھیں.
اب آنٹی اب آنٹی نے مجھےبتایا کہ ان کی بیٹی نے آج دو دن کے لئے اپنے ماموں کے گھر جانا ہے تو میں گھر پر اکیلی ہوں گی تم آ کر مجھے شام کو دودھ لا دینا میں نے فورًا حامی بھر لی اب مجھے شام کا انتظار تھا دل میں یہ خیال با با آ رہا تھا کہ آج کچھ بن جائے گا . شام ہوتے ہی میں نے آنٹی سے پیسے لئے اور دودھ لے کر ان کے دروازے پر آیا آنٹی نے مجھے دروازے کہ پچھے سے آواز دی کہ میں دودھ اندر آ کرپکڑا دوں یہ سن کر میں اندر داخل ہوا تو میرے آنکھیں آنٹی کو دیکھ کر ششدر رہ گیں وہ کسی اپسرا سے کم نہیں تھی وہ اُس کے بال گیلے تھے لگتا تھا کہ وہ ابھی نہا کر نکلی تھی اس نے لائٹ پنک سوٹ پہن رکھا تھا جس میں وہ گلابی پری لگ رہی تھی اس پر قیامت کا میک اپ “چائے پیوگے” آنٹی کی مدھر آواز نے اس سحر کو توڑا میرے منہ سے جی کے علاوہ کچھ نہ نکلا اب آنٹی کے چہرے پر عجیب سی مسکان تھی . کچھ ہی دیر میں آنٹی چائے لےکر اندر داخل ہوئی چائے پیتے ہوئے میں نے آنٹی کے جسم کا بغور جائزہ لیا آنٹی کے ممے کوئی ۳۴ کے ہوں گے ابھی میں آنٹی کے جسم کا طواف ہی کر رہا تھا کہ اچانک آنٹی کی آواز گونجی “کیا تمھاری کوئی گرل فرینڈ ہے” میں نے انکار میں سر ہلایا آنٹی نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ تمہں تو کچھ بھی نہیں پتہ ہو گا میںسمجھتے ہوئے بھی نہ سمجھ بن کر بولا “کیا مطلب”
وہ بولی ابھی سمجھاتی ہوں
اس کہ بعد س نے مجھے اپنے پیچھے آنے کو کہا وہ مجھے اپنے بیڈ روم میں لے گئی اور وہاں جا کر بولی
یہ کب سے ویران پڑا ہے آو اس کو آباد کرتے ہیں
میرے منہ سے کوئی آواز نہ نکلی یہ کہ کر وہ اٹیچ باتھ میں چلی گئی
دو منٹ بعد وہ باہر نکلی تو وہ الف ننگی تھی یہ دیکھ کر میں تو تقریباً بہوش ہی ہو گیا تھا اس کا جسم تو جیسے سنگ مرمر سے تراشا اس کے ممے بلکل گول تھے اور ان پر گلابی نپل غذب ڈھا رہے تھے اس کی پھدی پر بلکل کوئی بال نہ تھا جیسے اس نے نیچے کی آج ہی صفائی کی ہو اس کی پھدی کے ہونٹ آپس میں ملے ہوئے تھے
p>جیسے کسی نے کبھی اس کو ٹچ نہ کیا ہو . گانڈ کے ابھار ایسے تھے جیسے دو پہاڑ آپس میں مل رہے ہوں
کیسی لگ رہی ہوں ؟
آنٹی نے ذرا اترا کر پوچھا
میں نے کہا کہ “یہ آپ کیا کررہی ہیں”
تو وہ بولی “بچے عورت تم حرامی مردوں کی آنکھ پہچانتی ہے اور میں نے تو پہلے ہی دن تیری لالچی نظروں کو پہچان لیاتھا اور میں بھی برسوں سے لن کی ترسی ہوئی ہوں”
آنٹی کے منہ سےاس قسم کی گفتگو سن کر بڑا عجیب لگا لیکن مزا بھی آ رہا تھا اب آنٹی میرے قریب آئی اور میرے پاس بیڈ پر بیٹھ گئی اور پھر میرے بالوں اور گالوں پر ہاتھ پھیرنے لگی اسی دوران میں نے پوچھا کہ کیا آپ کو انکل نے کم چودا ہے
“کیوں کیا ہوا” و ہ بولی
آپ کی پھدی کے ہونٹ ملے ہوئے ہیں اور ممے بھی بڑے ٹائٹ ہیں
تمھارے اس حرامی انکل نے اب تک مجھے کوئی تین یا چار بار چودا ہو گا اس کو تو پیسے کمانے کی لگی رہتی ہے
اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا میری پھدی تو ایک تگڑے لن کو ترس گئی ہے
اب آنٹی نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گول مموں پر رکھ دیا اورہلکے سے دبانے لگی اب میں نے بھی آنٹی کے مموں کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا آنٹی آنکھیں بندکر کے کسی گہرے سرور میں تھی اب میں نے دھیرے سے ہاتھ آنٹی کی پھدی کو ٹچ کیا تو اس نے ہلکی سی آنکھ کھول کر میری طرف دیکھا اور میرا ٹراوزر اتارا اور پھر میرے لن کو اپنے ہاتھ سے سہلانے لگی اب اس نے میرا منہ پکڑ کر اپنے گول مموں پر لگا دیا اور میں ان پر اپنی زبان پھیرنے لگا اب آنٹی کے منہ سے او آ آ او مم مم آ او کی آوازیں نکلنا شروع ہو گئیں اور آنٹی نے اپنا ہاتھ جو کہ میرے لن پر تھا زور سے ہلانے لگی جس سے مجھے بہت مزا آ رہا تھا کیوں کہ اس سے پہلے میں نے کبھی کسی لڑکی کے ساتھ سیکس نہیں کیا تھا .
اب میں نے بھی ہاتھ آنٹی کی نرم گرم پھدی پر رکھا اور تیزتیز ہاتھ چلانے شروع کر دیئے اسی دوران اچانک میرے لن سے گرم گرم مکھن نکل کر آنٹی کے ہاتھ پر گرا تو آنٹی نے ہنس کر کہا کہ لو نکل گئی اس کی ساری اکڑ لگتا ہے تم واقعی میں کنوارے ہو
میں نے کہا جی آنٹی
آنٹی نے مجھے باتھ روم جانے اور لن صاف کرنے کو کہا میں تو جیسے اس کے سحر میں جکڑا ہوا تھا اور حکم کی تکمیل میں لگ گیا اسی اثنا میں آنٹی میرے لئے گرم دودھ کا گلاس لے آئیں میں نے وہ گرم دودھ پیا اور آنٹی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا اور وہ سمجھ گئی.
اب آنٹی اٹھی اور میرے پاس آ کر بولی ” کیا تم سیکس کرنا سیکھنا چاہتے ہو”
میں نے اثبات میں سر ہلایا
وہ بولی کہ اب میں جیسا کہوں گی تم ویسا ہی کرنا اگر تم ساری زندگی یہ بھول گئے تو پھر کہنا
اب آنٹی نے میرے لن کو چوسنا شروع کیا پہلے اس نے میرے لن کی ٹوپے پر اپنی زبان پھیرنی شروع کی اورپھر و ہ کبھی میرے ٹٹوں پر زبان پھیرتی اور کبھی میرے لن کو لولی پوپ سمجھ کر چوستی
اب میرے منہ سے اوں آں اوں کی آواز نکل رہی تھی اور میں پاگلوں کی طرح اس کے ممے دبا رہا تھا کچھ دیر بعد آنٹی نے مجھے نیچے لیٹنے کو کہا میں نیچے لیٹ گیا اب آنٹی میرے اوپر اس سٹائل سے آئی کہ وہ میرے نپل چوسنے لگی کبھی وہ ان کو اپنے دانتوں سے کاٹتی اور کبھی وہ ان پر زبان پھیرتی آہستہ آہستہ اب وہ میرے پیٹ پر زبان پھیرتی ہوئی نیچے سرکنے لگی اور پھر آنٹی نے میرا لن دوبارہ چوسنا شروع کر دیا مجھے زندگی میں جو مزا آج مل رہا تھاشاید دوبارہ نہ ملتا
اب آنٹی نے پھر سے سٹائل بدلا اور اپنی پھدی میرے منہ کی طرف کر لی اور اپنا منہ میرے لن کی طرف کر کہ اسے چوسنا شروع کر دیا اور اپنی پھدی میرے سینے پر رگڑنے لگی اس دوران وہ اپنی پھدی کبھی کبھی میرے منہ سے بھی ٹچ کر دیتی

میں سمجھ سکتا تھا کہ آنٹی کیا چاہتی تھی اور میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی زبان آنٹی کی پھدی سے ٹچ کی تو مجھےاس کی پھدی کی مٹھاس بہہت اچھی محسوس ہوئی میں نے اس کی پھدی کو ہلکے ہلکے زبان سے ٹچ کرنا شروع کیا تو آنٹی کسمسانا شروع کر دیا اور میرا لن اور بھی زیادہ سپیڈ سے چوسنا شروع کر دیا جس سے مجھے بہت مزا آنے لگا اب میں نے بھی اپنی پوری زبان اس کی پھدی میں اندرباہر کرنیے لگا اب آنٹی کے منہ سے مم اوں آآ مم اوئی زور سے مم شاباش اوں کی آوازیں نکلنے لگیں
اور میں بھی لن کو نیچے سے جھٹکے مار رہا تھا اور آنٹی کے منہ میں پورا لن گھسیڑ نے کی کوشش کر رہا تھا وہ بھی پوری آب و تاب سے میرا لن قلفی کہ مانند چوس رہی تھی.
اب مجھے لگا کے میرا لن منی چھوڑنے والا ہے میں نے آنٹی کو بتایا کہ میں چھوٹنے والا ہوں لیکن وہ مست ہو کر میرالن چوس رہی تھی اور پھر اچانک میں نے اپنی سپیڈ بڑھا دی اور میرے منہ سے بھی او آآ او مم آآ کی آوازیں نکلنا شروع ہو گئی تھیں اس کے ساتھ ہی میرے لن سے گرم گرم لاوہ آنٹی کے حلق کے اندر اتر گیا اور آنٹی اس گرم لاوے کو نگل گئی بلکہ اس نے میرا لن بھی اپنی زبان ہی سے صاف کیا .
اب آنٹی نے اٹھ کر اپنا زاویہ تبدیل کیا اورمیرے منہ کے پاس اپنی پھدی رکھ کر بیٹھ گئی میں سمجھ گیا کہ وہ کیا چاہتی ہے اور میں نے اس کی گلابی پھدی کو زور سے چاٹنا شروع کر دیا کبھی میں اس کی میٹھی چوت میں اپنی زبان پھیرتا اور کبھی اس کو زور سے چومتا اس کام میں مجھے بھی مزا آ رہا تھا میرے دونوں ہاتھ آنٹی کے گول مموں کو دبانے میں مصروف تھے جس سے آنٹی کا لطف دوبالا ہو رہا تھا اب میں نے آنٹی کو سیدھا لٹیایا اور اس کی پھدی چاٹناشروع کر دی اب آنٹی بھی بری طرح سے تڑپ رہی تھی اور میرا سر پکڑ کر زور سے اپنی پھدی میں گھسیڑنے کی کوشش کر رہی تھی اب آنٹی کے منہ سے بھی آواز آنے لگی اور وہ زور سے چلانے لگی اف ہائے اف میری جان میں گئی اور آنٹی فارغ ہو گئی

آنٹی نے اپنی چوت کا سارا پانی میرے منہ میں چھوڑ دیا اور مجھے زور سے پکڑ کر کسنگ کرنے لگی اب آنٹی سائیڈ پر لیٹ گئی اور زور سے سانس لینے لگی
کچھ دیر بعدآنٹی بولی “سناو مزا آیا ”
میں نے کہا بہت مزا آیا لیکن میرا لن بیتاب ہے آپ کی پھدی کی سیر کرنے کو
آنٹی نے اشارے سے باتھ روم میں آنے کو کہا ہم دونوں نے شاور لیا اور واپس کمرے میں آ گئے اب آنٹی نے دوبارہ میرا لن منہ میں لے کر چوسنے لگی اب کی بار آنٹی کوکچھ زیادہ وقت لگا لن کو کھڑا کرنے میں کیونکہ تقریبًا ایک گھنٹے میں یہ تیسری بار لن کا امتحان تھا
اب کی بار لن کھڑا ہوتے ہی میں نے آنٹی کو سیدھا لٹایا اور آنٹی کی پھدی پر کس کیا گلابی پھدی چٹوانے کے بعد اور بھی چمک رہی تھی میں نے آنٹی کی پھدی پر جیسے ہی لن کو گھسایا آنٹی تھرتھرانے لگی اور میں اپنے لن کو پھدی پر تیز تیز رگڑرہا تھا اور اب آنٹی کی بس ہو گئی اور اس نے مجھے کہا کہ پلیز اپنا لن میرے اندر ڈالو
میں نےاب اپنے لن کو آنٹی کی خوبصورت پھدی کے منہ پر رکھا تو آنٹی بولی دھیان سے بہت دیر بعد اس میں کچھ جانے لگا ہے
لیکن مجھ پر تو شیطان سوار تھا میں نے لن کو ایک ہی جھٹکے سے اپنا پورا لن آنٹی کی پھدی میں اتار دیا آنٹی کی زور دار چیخ کمرے میں گونجی اور آنٹی نے نیچے سے نکلنے کی کوشش کی لیکن میں نے اپنی بانہوں میں اس کو جکڑ لیا اور جھٹکے مارنے شروع کر دئیے آنٹی بلکتی رہی پر میں اس کو چودتا رہا کچھ ہی لمحوں بعد آنٹی کو بھی مزا آنے لگا اب آنٹی بھی اپنی چودوائی میں میرا بھرپور ساتھ دے رہی تھی آنٹی کی چوت ٹائٹ ہونے کی وجہ سے میرا لن پھس کراندر باہر ہو رہا تھا اور مجھے زیادہ زور لگانا پڑ رہا تھا
اب آنٹی نے مجھے سٹائل بدلنے کو کہا اب میں نیچے تھا اور وہ اپنی ٹانگوں کے بل پر میرے اوپر تھی اب اس نے جھٹکے مارنے شروع کر دئیے میں بھی نیچے سے اوپر جھٹکے ماررہا تھا کمرہ ٹھپ ٹھپ پچ پچ کی آواز سے گونج رہا تھا اور اس پر آنٹی کی آآ ہوں آ آ زور سے کی آوزیں ایک

نیا ماحول بنا رہی تھیں آنٹی اتنی زورسے اٹھک بیٹھک کر رہی تھی جیسے و ہ آج ہی اپنے ارمان پورے کر لے گی اس کے زوروشور کو دیکھ کر میں بھی نیچے سے زور لگانے لگا اب میں نے آنٹی کے ممے منہ میں لے کر اس کے گلابی نپلوں کو کاٹنا شروع کر دیا جس سے آنٹی اور بھی زیادہ بد مست گھوڑی کی طرح میرے اوپر اچھلنے لگی اب کمرے میں آنٹی کی آوازیں بری طرح گونج رہی تھیں مم اوے اف ہاے مم اوں آہ اوئی کچھ دیر اسی طرح اوچھلنے کے بعد آنٹی کی آواز آئی او میں گئی اور آنٹی سبق رفتار گھوڑی کی مانند اچھلتی ہوئی اچانک آہستہ ہو گئی اور پھررک کر میرے اوپر گر پڑی اور زور زور سے ہانپنے لگی مجھے اپنے ٹٹوں پر لیس دار مادہ رینگتا ہوا محسوس ہوا میں سمجھ گیا آنٹی فارغ ہو گئی ہے
تھوڑی دیر ایسے ہی لیٹنے کے بعد آنٹی بولی تم نہیں ہوے فارغ میں نے کہا ابھی نہیں
اب آنٹی اٹھی اور کپڑے سے اپنی پھدی اور میرا لن صاف کیا اور پھر گھوڑی بن گئی اب میں نے اس کی پھدی پر تھوک ڈالا اور لن اندر ڈال دیا اور آنٹی کو زور زور سے چودنا شروع کر دیا میرے ہر جھٹکے پر آنٹی اپنے سر کو بیڈ پر پٹختی اور ہاتھوں سے چادر کو دبوچتی کچھ ہی دیر میں آنٹی نے ریورس گیئر لگا دیا میں آگے کو جھٹکا مارتا تو آنٹی پیچھے کی طرف جس سے ہم دونوں کو بہت مزا آ رہا تھا اس دوران میں کبھی اس کے مموں کو دبوچتا اور کبھی اس کی کمر پر کس کرتا اور کبھی اس کی نرم سفید گانڈ پر چپت لگا رہا تھا جس سے اس کی گانڈ سرخ انار کی طرح ہو گئی اور زبردست نظارہ دے رہی تھی
اس کھیل میں ہمیں کوئی پون گھنٹہ گزر گیا اب آنٹی نے مجھے کہا اب بس بھی کرو
میں نے کہا کہ یہ تیسری بار ہے کچھ وقت تو لگے گا
آنٹی نے مجھے رکنے کو کہا میرے رکتے ہی آنٹی نے اپنی پھدی کا معائنہ کیا اور مجھے دیکھنے کو کہا بیچاری آنٹی کی پھدی سوج کر پھدکڑ بن گئی تھی
میں نے آنٹی سے معذرت کی اور دوبارہ گھوڑی بننے کو کہا
آنٹی مجبورًا گھوڑی بن گئی اب میں نے دوبارہ آنٹی کی پھدی میں لن ڈال دیا اور جھٹکے مارنے شروع کر دئیے اب آنٹی آہستہ آہستہ میرا ساتھ دے رہی تھی میں اپنے دونوں ہاتھ آنٹی کی گانڈ پر رکھ کر زور زور سے اس کی گانڈ دبا رہا تھا اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا اور میں نے آنٹی کی گانڈ پر تھوک پھینکا اور اپنے انگھوٹے کو اس کی گانڈ پر رکھ کر مسلنے لگا اور دھیرے دھیرے سے اس کی گانڈ میں ڈالنے کی کوشش کرنے لگا جیسے ہی میں نے آنٹی کی گانڈ میں اپنا انگھوٹھا تھوڑا سا آگے کیا تو آنٹی یک دم بولی یہ کیا کر رہے ہو میں نے کہا کچھ نہیں اور میں نے اس کی گانڈ میں انگوٹھا اندر باہر کرنا شروع کر دیا جس سے شائد اس کو بھی مزا آنے لگا اور وہ دوبارہ تیز تیز پیچھے کی جانب جھٹکے مارنے لگی اور کچھ دیر بعد وہ دوبارہ فارغ ہو گئی اب میں نے آنٹی کے کان میں رومانٹک انداز میں کہا کہ مجھے آپ کی گانڈ مارنی ہے آنٹی پہلے تو خاموش رہی پھر بولی درد بہت ہو گا ایک بار میرے شوہر کالن غلطی سے چلا گیا تھا تو میری گانڈ تین دن تک درد کرتی رہی تھی
میں نے اسے سمجھایا کہ وہ غلطی سے اندر ڈل گیا تھا اس لئے درد ہوئی تھی میں دیکھ کر ڈالوں گا خیر میں نے اس شرط پر کے اگر درد زیادہ ہو گی تو میں باہر نکال لوں گا تو آنٹی راضی ہو گئی اب میں نے آنٹی کی گانڈ پر تھوک ڈالا اوراپنا لن اس کے سوراخ پر رکھ کر آنٹی کے ممے پکڑے اور اس کی کمر پر کس کرتے ہوئے تھوڑا سا لن اس کی گانڈ میں ڈالا ابھی صرف ٹوپہ ہی اندر گیا تھا کہ آنٹی زور زور سے سانس لینے لگی میں نے لن کو وہیں پر روکا اور آنٹی کے مموں کو سہلانے کے ساتھ ساتھ اس کی کمر پر بھی زور زور سے کس شروع کر دی جس سے اس کو کافی سکون ملا اب میں نے آہستہ سےٹوپہ اندر باہر شروع کر دیا کچھ دیر بعد میں نے پورا لن ایک ہی جھٹکے میں اس کی گانڈ میں ڈال دیا آنٹی کے حلق سے ایک دلخراش چیخ نکلی اور اس نے نیچے سے نکلنے کی کوشش کی لیکن میں نے اپنے بازووں کی مدد سے اس کی کمر کے گرد شکنجہ کسا رکھا آنٹی نے مجھے گالیاں بکنا شروع کر دیں پر مجھ پر تو گلابی
گانڈ کا نشہ سوار تھا اب میں نے ہلکے ہلکے جھٹکے مارنے شروع کئے آنٹی کی آنکھوں سے آنسوں بدستور جاری تھے لیکن میں بے رحم ہو کر جھٹکے مار رہا تھا کچھ دیر بعد آنٹی کو بھی شائد مزا آنے لگا کیونکہ آنٹی کے منہ سے پہلے والی آوازیں آنا شروع ہو گئیں تھیں اب میں نے آنٹی کو گھوڑی سٹائل سے ہٹا کر سائیڈ پر لٹا لیا اور پیچھے سے اپنا لن آنٹی کی گانڈ میں ڈال دیا اب کبھی میں اپنا لن آنٹی کی گانڈ میں تو کبھی آنٹی کی پھدی میں ڈالنے لگا پھر میں نے آنٹی کی گانڈ زور زور سے مارنی شروع کر دی آنٹی بھی مزے کے ساتھ اپنی گانڈ آگے پیچھے کر رہی تھی اور مجھے زور لگانے کو کہہ رہی تھی میں بھی آنٹی کی باتیں سن کر اپنی اوقات سے بڑھ کر زور لگا رہا تھا اب میرا لن بھی لاوہ اگلنے والا تھا میں اور آنٹی اس وقت عجیب و غریب آوازیں نکال رہےتھے کمرہ ہماری آوازوں سے گونج رہا تھا اور پھر میرے لن نے گرم گرم منی آنٹی کی گانڈ میں انڈیل دی جس سے ہم دونوں کو راحت ملی میں نے جیسے ہی اپنا لن آنٹی کی گانڈ سے نکالنے لگا آنٹی نے مجھے روک دیا وہ ابھی تک لن کی اپنی گانڈ میں موجودگی سے لطف اندوز ہو رہی تھی
پھر ہم کچھ دیر بعد اٹھے اور باتھ میں جا کر شاور لیا اور کپڑے پہن کر ڈرائنگ روم میں آ کر بیٹھ گئے اور باتیں کرنے لگے آنٹی نے میرا شکریہ ادا کیا کہ میں نے اس کی گانڈ مار کر جس جنت کی اس کو سیر کروائی وہ اس کو کبھی نہیں بھولے گی پھر آنٹی مجھے اپنا گھر دیکھاے لگی اور پھر ایک کمرے میں میری نظر ایک بڑی سی تصویر پر پڑی اسے دیکھ کر میری آنکھیں چندیا گئیں ایسے لگا جیسے سارے جہاں کی خوبصورتی ا

school teacher aur kahani

Posted on Updated on

//

میرا نام عشرت ہے اور میری عمر 22 سال کی ہے یہ ان دنوں کی بات ہے جب مین نے اپنا ماسٹرز مکمل کیا تھا اور ایک سکول میں ٹیچنگ سٹارٹ کی تھی میرے بوبز 36 سائز کے تھے گورا رنگ اور سکسی فیگر تھا اور مجھے جو دیکھتا تھا وہ مست ہوجاتاتھا میں بہت پر کشش دکھتی تھی- خیر سکول میں بھی مجھ پر اکثر پیرنٹ اور میل ٹیچر بھی لائن مارتے تھے- میں اپنی سکسی فیگر کا بھرپور فائڈہ اٹھا کر اپنے کام نکلواتی تھی اور پرنسپل بھی مجھے بہت گھورتے تھے- Read the rest of this entry »